Wednesday, 22 August 2012

سورۃ البقرۃ


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۱)

الٓـمّٓۚ﴿۱
۲ )

ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَۙ﴿۲

 وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف۴)

 الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَۙ﴿۳

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف۶) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (ف۷)

وَالَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبْلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَؕ﴿۴

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا(ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں (ف۹)

 اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ﴿۵

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے


اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآ ءٌ عَلَیۡہِمْ ءَاَنۡذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنۡذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ﴿۶

بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے  ۱۰) انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں

 خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبْصٰرِہِمْ غِشٰوَۃٌ ۫ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ٪﴿۷

اللّٰہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے (ف۱۱) اور ان کے لئے بڑا عذاب

 وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَمَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَۘ﴿۸

اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللّٰہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

 یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَمَا یَخْدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَمَا یَشْعُرُوۡنَؕ﴿۹

فریب دیا چاہتے ہیں اللّٰہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللہُ مَرَضًا ۚ وَلَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ﴿۱۰

ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللّٰہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا(ف۱۵)

 وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفْسِدُوۡا فِی الۡاَرْضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوۡنَ﴿۱۱

اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

 اَلَاۤ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوۡنَ وَلٰکِنۡ لَّا یَشْعُرُوۡنَ﴿۱۲

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

 وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمْ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤْمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَآءُ وَلٰکِنۡ لَّا یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۳

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں (ف۱۷)تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں (ف۱۸)سنتا ہے ؟ وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں (ف۱۹)

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمْ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہۡزِءُوۡنَ﴿۱۴

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں (ف۲۱)

 اَللہُ یَسْتَہۡزِئُ بِہِمْ وَیَمُدُّہُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ﴿۱۵

اللّٰہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

 اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ وَمَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۶

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے (ف۲۴)
مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَا حَوْلَہٗ ذَہَبَ اللہُ بِنُوۡرِہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوۡنَ﴿۱۷

ان کی کہاوت اسکی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللّٰہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا ۲۵)

صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوۡنَ﴿ۙ۱۸

بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں

اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصٰبِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوٰعِقِ حَذَرَالۡمَوۡتِ ؕ وَاللہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ﴿۱۹

یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللّٰہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (ف۲۸)

 یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصٰرَہُمْ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوْا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیۡہِمْ قَامُوۡا ؕ وَلَوْشَآءَ اللہُ لَذَہَبَ بِسَمْعِہِمْ وَاَبْصٰرِہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۰﴾٪

بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللّٰہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بیشک اللّٰہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۳۲)

 یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ﴿ۙ۲۱

اے لوگو (ف۳۳) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے (ف۳۴)

 الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرْضَ فِرٰشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوۡا لِلہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴿۲۲

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا (ف۳۵) تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللّٰہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹہراؤ (ف۳۶)

 وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ ۪ وَادْعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۲۳

اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے خاص بندے (ف۳۷) پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ (ف ۳۸) اور اللّٰہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو

 فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا وَلَنۡ تَفْعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚۖ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ﴿۲۴

پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (ف ۳۹) تیار رکھی ہے کافروں کے لئے (ف۴۰)

وَبَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنْہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقْنَا مِنۡ قَبْلُ ۙ وَاُتُوۡابِہٖ مُتَشٰبِہًا ؕ وَلَہُمْ فِیۡہَاۤ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۵

اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ۴۱) جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گاصورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا ۴۲) اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں ۴۳) اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۴۴)

 اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوْقَہَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَیَعْلَمُوۡنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ ۚ وَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَیَقُوۡلُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًاۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ وَمَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیۡنَ﴿ۙ۲۶

بیشک اللّٰہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف۴۵) تو وہ جو ایمان لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف ۴۶) رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللّٰہ کا کیا مقصود ہے اللّٰہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف۴۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں (ف ۴۸)

 الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثٰقِہٖ ۪ وَیَقْطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ﴿۲۷

وہ جو اللّٰہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف۴۹) پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں(ف ۵۰ الف) وہی نقصان میں ہیں

کَیۡفَ تَکْفُرُوۡنَ بِاللہِ وَکُنۡتُمْ اَمْوٰتًا فَاَحْیٰکُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ﴿۲۸

بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہو گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے (ف۵۰ب)

 ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ﴿۲۹﴾٪

وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے (ف۵۱) پھر آسمان کی طرف استواء (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے (ف۵۲)

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجْعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفْسِدُ فِیۡہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۳۰

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے ۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۵۵)

 وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۱

اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

 قَالُوۡا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ﴿۳۲

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئْہُمۡ بِاَسْمَآئِہِمْ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ ۙ قَالَ اَ لَمْ اَ قُلۡ لَّکُمْ اِنِّیۡۤ اَعْلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِۙ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا کُنۡتُمْ تَکْتُمُوۡنَ﴿۳۳

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

 وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبْلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ٭۫ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

 وَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْکُنْ اَنۡتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئْتُمَا ۪ وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۳۵

۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

 فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَقُلْنَا اہۡبِطُوۡا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَکُمْ فِی الۡاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ﴿۳۶

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

 فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ﴿۳۷

پھر سیکھ لئے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللّٰہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان
قُلْنَا اہۡبِطُوۡا مِنْہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۳۸

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۶۸)

وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۳۹﴾٪

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

 یٰبَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اذْکُرُوۡا نِعْمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتُ عَلَیۡکُمْ وَاَوْفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمْۚ وَ اِیّٰیَ فَارْہَبُوۡنِ﴿۴۰

اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو (ف۷۲)

 وَاٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ وَلَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّ اِیّٰیَ فَاتَّقُوۡنِ﴿۴۱

اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبٰطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴿۴۲

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ

 وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ﴿۴۳

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (ف۷۵)

اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنۡسَوْنَ اَنۡفُسَکُمْ وَاَنۡتُمْ تَتْلُوۡنَ الْکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ﴿۴۴

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۷۶)

 وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ﴿ۙ۴۵

اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں (ف۷۷)

 الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۴۶﴾٪

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا (ف۷۸)

یٰبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ اذْکُرُوۡا نِعْمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتُ عَلَیۡکُمْ وَاَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ﴿۴۷

اے اولادِیعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی (ف۷۹)

 وَاتَّقُوۡا یَوْمًا لَّا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفٰعَۃٌ وَّلَا یُؤۡخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ﴿۴۸

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ کافر کے لئے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۸۱)

Wednesday, 8 August 2012

سورۃ الفاتحہ


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

 اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱﴾

سب خوبیاں اللّٰہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۲﴾

بہت مہربان رحمت والا

مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِؕ﴿۳﴾

روزِ جزاء کا مالک

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾

ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں

اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾

ہم کو سیدھا راستہ چلا

صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬

راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا

غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا




(ف1)
''بِسْمِ اللّٰہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہ وَ نُصَلِیّ عَلیٰ حَبِیْبِہ الکریِم '' سورۂ فاتحہ کے اسماء ، اس 
سورۃ کے متعدد نام ہیں ۔ فاتحہ ، فاتحۃ الکتاب ، اُمُّ القرآن ، سورۃ الکنز ، کافیۃ ، وا فیۃ ، شافیۃ ، شفا ، سبع مثانی ، نور ، رقیۃ ، سورۃ الحمد ، سورۃ الدعا ، تعلیم المسئلہ ، سورۃ المناجاۃ ، سورۃ التفویض ، سورۃ السوال ،  اُمُّ الکتاب ، فاتحۃ القرآن ، سورۃ الصلوۃ ۔ اس سورۃ میں سات آیتیں ستائیس کلمے ایک سو چالیس حرف ہیں کوئی آیت ناسخ یا منسوخ نہیں ۔


شان نُزول : یہ سورۃ مکّہ مکرّمہ یا مدینہ منوّرہ یا دونوں میں نازل ہوئی ۔ عمرو بن شرجیل سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا میں ایک ندا سنا کرتا ہوں جس میں اِقْرَأ  کہا جاتا ہے ، ورقہ بن نوفل کو خبر دی گئی عرض کیا ، جب یہ ندا  آئے آپ باطمینان سنیں ، اس کے بعد حضرت جبریل نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا فرمائیے '' بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلْحَمدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین '' اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نُزول میں یہ پہلی سورت ہے مگر دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سورۂ اِقْرَأ نازل ہوئی ۔ اس سورت میں تعلیماً بندوں کی زبان میں کلام فرمایا گیا ہے ۔ 

احکام 
مسئلہ : نماز میں اس سورت کا پڑھنا واجب ہے امام و منفرد کے لئے تو حقیقتاً اپنی زبان سے اور مقتدی کے لئے بقرأتِ حکمیہ یعنی امام کی زبان سے ۔ صحیح حدیث میں ہے  '' قِرَاء ۃُ الاِمَامِ لَہ' قِرَاء ۃٌ '' امام کا پڑھنا ہی مقتدی کا پڑھنا ہے ۔ قرآنِ پاک میں مقتدی کو خاموش رہنے اور امام کی قرأت سننے کا حکم دیا ہے ۔ '' اِذا قُرِیءَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْ ا لَہ' وَ اَنْصِتُوْا ''۔ مسلم شریف کی حدیث ہے '' اِذَاقَرَأ فَانْصِتُوْا '' جب امام قرأت کرے تم خاموش رہو اور بہت احادیث میں یہی مضمون ہے ۔ 
مسئلہ : نمازِ جنازہ میں دعا یاد نہ ہو تو سورۂ فاتحہ بہ نیتِ دعا پڑھنا جائز ہے ، بہ نیتِ قرأت جائز نہیں (عالمگیری) 
سورۂ فاتحہ کے فضائل
احادیث میں اس سورہ کی بہت سے فضیلتیں وارد ہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توریت و انجیل و زبور میں اس کی مثل سورت نہ نازل ہوئی ۔ (ترمذی) ایک فرشتہ نے آسمان سے نازل ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کیا اور دو ایسے نوروں کی بشارت دی جو حضور سے پہلے کسی نبی کو عطا نہ ہوئے ، ایک سورۂ فاتحہ ، دوسرے سورۂ بقر کی آخری آیتیں ۔ (مسلم شریف) سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لئے شفا ہے ۔ (دارمی) سورۂ فاتحہ سو مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگے اللہ تعالٰی قبول فرماتا ہے ۔ (دارمی) 
استعاذہ 
مسئلہ : تلاوت سے پہلے '' اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم '' پڑھنا سنت ہے ۔ (خازن) لیکن شاگرد استاد سے پڑھتا ہو تو اس کے لئے سنت نہیں ۔ (شامی) 
مسئلہ : نماز میں امام و منفرد کے لئے سبحان سے فارغ ہو کر آہستہ اعوذ الخ پڑھنا سنت ہے ۔ (شامی) التسمیہ 
مسئلہ :'' بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم '' قرآنِ پاک کی آیت ہے مگر سورۂ فاتحہ یا اور کسی سورہ کا جزو نہیں اسی لئے نماز میں جَہر کے ساتھ نہ پڑھی جائے ۔ بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما نماز '' الْحَمدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ '' سے شروع فرماتے تھے ۔ 
مسئلہ : تراویح میں جو ختم کیا جاتا ہے اس میں کہیں ایک مرتبہ بسم اللہ جَہر کے ساتھ ضرور پڑھی جائے تاکہ ایک آیت باقی نہ رہ جائے ۔ 
مسئلہ : قرآنِ پاک کی ہر سورت بسم اللہ سے شروع کی جائے سوائے سورۂ برأت کے ۔ 
مسئلہ : سورۂ نمل میں آیتِ سجدہ کے بعد جو بسم اللہ آئی ہے وہ مستقل آیت نہیں بلکہ جزوِ آیت ہے بلا خلاف اس آیت کے ساتھ ضرور پڑھی جائے گی ، نماز جہری میں جہراً سری میں سراً ۔ 
مسئلہ : ہر مباح کام بسم اللہ سے شروع کرنا مستحب ہے ناجائز کام پر بسم اللہ پڑھنا ممنوع ہے ۔ 
سورۂ فاتحہ کے مضامین :
اس سورت میں اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا ، ربوبیت ، رحمت ، مالکیت ، استحقاقِ عبادت ، توفیقِ خیر ، بندوں کی ہدایت ، توجہ الٰی اللّٰہ، اختصاصِ عبادت ، استعانت ، طلبِ رُشد ، آدابِ دعا ، صالحین کے حال سے موافقت ،  گمراہوں سے اجتناب و نفرت ، دنیا کی زندگانی کا خاتمہ ، جزاء اور روزِ جزاء کا مُصرَّح و مُفصَّل بیان ہے اور جملہ مسائل کا اجمالاً ۔ 
حمد 
مسئلہ : ہر کام کی ابتداء میں تسمیہ کی طرح حمدِ الٰہی بجا لانا چاہیئے ۔ 
مسئلہ : کبھی حمد واجب ہوتی ہے جیسے خطبۂ جمعہ میں ، کبھی مستحب جیسے خطبۂ نکاح و دعا و ہر امرِ ذیشان میں اور ہر کھانے پینے کے بعد ، کبھی سنّتِ مؤکّدہ جیسے چھینک آنے کے بعد ۔ (طحطاوی) 
'' رَبُّ الْعَالَمِیْنَ '' میں تمام کائنات کے حادث ، ممکن ، محتاج ہونے اور اللہ تعالٰی کے واجب ، قدیم ، ازلی ، ابدی  ، حی ، قیوم ، قادر ، علیم ہونے کی طرف اشارہ ہے جن کو ربُّ العالمین مستلزم ہے ۔ دو لفظوں میں علمِ الٰہیات کے اہم مباحث طے ہو گئے ۔
'' مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ '' ملک کے ظہورِ تام کا بیان اور یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور مملوک مستحقِ عبادت نہیں ہو سکتا ۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دنیا دار العمل ہے اور اس کے لئے ایک آخر ہے ۔ جہان کے سلسلہ کو ازلی و قدیم کہنا باطل ہے ۔ اختتامِ دنیا کے بعد ایک جزاء کا دن ہے اس سے تناسخ باطل ہو گیا ۔
'' اِیَّاکَ نَعْبُدُ '' ذکر ذات و صفات کے بعد یہ فرمانا اشارہ کرتا ہے کہ اعتقاد عمل پر مقدّم ہے اور عبادت کی مقبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے ۔ 
مسئلہ : '' نَعْبُدُ '' کے صیغۂ جمع سے ادا بجماعت بھی مستفاد ہوتی ہے اور یہ بھی کہ عوام کی عبادتیں محبوبوں اور مقبولوں کی عبادتوں کے ساتھ درجۂ قبول پاتی ہیں ۔
مسئلہ : اس میں ردِّ شرک بھی ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا عبادت کسی کے لئے نہیں ہو سکتی ۔
'' وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ '' میں یہ تعلیم فرمائی کہ استعانت خواہ بواسطہ ہو یا بے واسطہ ہر طرح اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، حقیقی مستعان وہی ہے باقی آلات و خدام و احباب وغیرہ سب عونِ الٰہی کے مَظہَر ہیں ، بندے کو چاہئے کہ اس پر نظر رکھے اور ہر چیز میں دستِ قدرت کو کارکن دیکھے ۔ اس سے یہ سمجھنا کہ اولیاء و انبیاء سے مدد چاہنا شرک ہے عقیدہ باطلہ ہے کیونکہ مقربانِ حق کی امداد امدادِ الٰہی ہے  استعانت بالغیر نہیں ، اگر اس آیت کے وہ معنی ہوتے جو وہابیہ نے سمجھے تو قرآنِ پاک میں '' اَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ '' اور '' اِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْر وَ الصَّلٰوۃِ '' کیوں وارد ہوتا اور احادیث میں اہلُ اللہ سے استعانت کی تعلیم کیوں دی جاتی ۔ 
'' اِھْدِنَا الصِّراط الَمُستَقِیْمَ'' معرفتِ ذات و صفات کے بعد عبادت ، اس کے بعد دعا تعلیم فرمائی اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ بندے کو عبادت کے بعد مشغولِ دعا ہونا چاہئے ۔ حدیث شریف میں بھی نماز کے بعد دعا کی تعلیم فرمائی گئی ہے ۔ (الطبرانی فی الکبیر و البیہقی فی السنن) ۔ 
صراطِ مستقیم سے مراد اسلام یا قرآن یا خُلقِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا حضور کے آل و اصحاب ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صراطِ مستقیم طریقِ اہلِ سنت ہے جو اہلِ بیت و اصحاب اور سنّت و قرآن و سوادِ اعظم سب کو مانتے ہیں ۔
''صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ '' جملہ اُولٰی کی تفسیر ہے کہ صراطِ مستقیم سے طریقِ مسلمین مراد ہے ، اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں کہ جن امور پر بزرگانِ دین کا عمل رہا ہو وہ صراطِ مستقیم میں داخل ہے ۔ 
'' غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ '' اس میں ہدایت ہے کہ مسئلہ طالبِ حق کو دشمنانِ خدا سے اجتناب اور ان کے راہ و رسم ، وضع و اطوار سے پرہیز لازم ہے ۔ ترمذی کی روایت ہے کہ '' مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ '' سے یہود اور '' ضَآلِّیْنَ '' سے نصاریٰ مراد ہیں ۔ 
مسئلہ : ضاد اور ظاء میں مبائنت ذاتی ہے ، بعض صفات کا اشتراک انہیں متحد نہیں کر سکتا لہٰذا غیر المغظوب بظاء پڑھنا اگر بقصد ہو تو تحریفِ قرآن و کُفر ہے ورنہ ناجائز ۔ 
مسئلہ : جو شخص ضاد کی جگہ ظا پڑھے اس کی امامت جائز نہیں ۔ (محیطِ برہانی) 
'' آمِیْنَ'' اس کے معنی ہیں ایسا ہی کریا قبول فرما ۔ 
مسئلہ : یہ کلمۂ قرآن نہیں ۔ 
مسئلہ : سورۂ فاتحہ کے ختم پر آمین کہنا سنت ہے ، نماز کے اندر بھی اور نمازکے باہر بھی ۔ 
مسئلہ : حضرت امامِ اعظم کا مذہب یہ ہے کہ نماز میں آمین اخفا ء کے ساتھ یعنی آہستہ کہی جائے ، تمام احادیث پر نظر اور تنقید سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جَہر کی روایتوں میں صرف وائل کی روایت صحیح ہے اس میں '' مَدَّ بِھَا '' کا لفظ ہے جس کی دلالت جَہر پر قطعی نہیں جیسا جَہر کا احتمال ہے ویسا ہی بلکہ اس سے قوی مد ہمزہ کا احتمال ہے اس لئے یہ روایت جَہر کے لئے حُجّت نہیں ہو سکتی ، دوسری روایتیں جن میں جَہر و رفع کے الفاظ ہیں ان کی اسناد میں کلام ہے علاوہ بریں وہ روایت بالمعنی ہیں اور فہمِ راوی حدیث نہیں لہذا  آمین کا آہستہ ہی پڑھنا صحیح تر ہے ۔




Hum kisi ki dosti k muntazir nahi hain, ".Faraz."






: Hum kisi ki dosti k muntazir nahi hain,
".Faraz."
Jo humen chor kr jaye ga,
wo
INSHALLAH Ramzaan mei
Sahri time
peeppa hi wajaye ga.

Tuesday, 7 August 2012

Jamaal e Kam'sini ko dekh Kr, Nazaren yon kehti hen..

Jamaal e Kam'sini ko dekh Kr, Nazaren yon kehti hen..
Abhi Sy tum Qayamat ho shabaab aya to kya ho ga...???




Jamaal e Kam'sini ko dekh Kr, Nazaren yon kehti hen..

Abhi Sy tum Qayamat ho shabaab aya to kya ho ga...???

صبح بخیر


صبح بخیر



,*"*, ,*"*,,*"*, ,*"*,
*,اســلام عليــكـم *
‎   "*,,*"  *  "*, ,*"
 @====@
‎   ) *صــبــح*)
  /   " ** "  /
‎ ( بـخــیــر  (
اللہ تعالی آپکو ھمیشہ ھستی مسکراتی خوشیوں کےساتھ ھمیشہ خوش رکھے.آمین

Tajdeed-e-raah-o-rasm k qabil na tha mgr"


Tajdeed-e-raah-o-rasm k qabil na tha mgr




Tajdeed-e-raah-o-rasm k qabil na tha mgr"

Masoom dil ka hukm tha tameel kr dia"

Hm mar gaye k mitt gye,jaan se guzar gye"

Wada kisi b tarha se takmeel kr dia"

Ehd-e-wafa,suroor-e-mhbbt,khumar-e-ishq"

Gard-o-ghubar-e-waqt ne tehleel kr dia"

Nazuk mizaaj thy kbhi phoolon ki tarha hum"

In hadsaat-e-waqt ne hmain tabdeel kar dia...!!!

Halaat meray mujh say na maloom kijiye...!!

Halaat meray mujh say na maloom kijiye...!!
Mud'dat howi hai mujh say mera wasta nahi




Halaat meray mujh say na maloom kijiye...!!
Mud'dat howi hai mujh say mera wasta nahi